اہل بیت(ع) نیوز اییجسنی۔ابنا۔
اسلام تیری مظلومیت کسکو بتائی جائے کیا ان مراکز اور سازمانوں کو کہ جسکے ادارہ کرنے والے وہ یہود و نصاری کہ جو قران کی رو سے اسلام کے قسم خوردہ دشمن ہیں
یا ان بعض عرب حکومتوں کو کہ جو اسلام کی ٹھیکیدار بنی ہوئی ہیں در حالیکہ اسلام دشمن طاقتوں کے ساتھ یکجٹ ہوکر جان و مال کے ذریعہ حقیقی اسلام اور مسلمانوں سے جنگ کر رہی ہیں چونکہ ان حکومتوں کے حکام دشمنان اسلام کیلئے شطرنج کی گوٹوں کے مانند ہیں اور شرق اوسط میں ان کی بقاء جہان استکبار کے منافع کیلئے مفید ہے اور ان کی ملتیں بیدار ہیں اپنے سلطنتی حکام کے ساتھ نہیں ہیں
یا یہ درد بھری کہانی ان اسلام نما مسلمانوں سے کہی جائے کہ جو نہ شیعہ ہیں اور نہ سنی، جنکا جہان اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت آمیز سلوک ہے اور اسلام کے کسی فرقہ سے ان کا تعلق نہیں، جنکا کام انسانیت کا قتل عام، عورتوں، مردوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کا بے دردی سے قتل و غارت اور بدترین و وحشی ترین طریقوں سے انسانوں کو ذبح کرنا کہ جو نوع انسانی سے ہٹ کر کوئی شیطانی مخلوق ہی اس کام کو انجام دے سکتی ہے، آیا ان کا تعلق اسلام سے ہو سکتا ہے؟ جو اصلا معاییر اسلام اور قران و حدیث کے خلاف ہے چنانچہ سورہ مائدہ آیہ 32 میں ہے کہ: جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا پوری انسانیت کو قتل کر دیا اور جس نے ایک انسان کو زندگی بخشی گویا پوری انسانیت کو زندگی بخشی
رسولخدا ص کا ارشاد ہے کہ: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ یا زبان سے کسی مسلمان کو اذیت نہ پہنچے
یا انبیا علیہم السلام و صحابہ کرام کی قبروں کو منہدم کرنا اور ان کے آثار کو مٹانے والوں کا تعلق اسلام سے ہو سکتا ہے؟ یہ کہاں کا اسلام اور کہاں کی انسانیت ہے؟
مسلمانوں کی صفوف میں رخنہ ڈالنا اور ان کے درمیان فتنہ برپا کرنا جو قران کے خلاف ہے سورہ بقرہ آیہ 217 : فتنہ قتل سے بڑی چیز ہے
آیا یہ کام اس مسلمان کا جو اسلام و مسلمین کا درد رکھتا ہو، ہو سکتا ہے؟ البتہ ہاں ہو تو سکتا ہے لیکن ان لوگوں کا جو مسلمانوں کے بھیس میں آکر اس ظلم و تشدد کو انجام دے رہے ہیں، یا پھر اتنے سادہ لوح لوگ ہوں کہ جو دشمنان اسلام کے ہاتھوں بک گئے ہوں اور ان کو شاید خبر بھی نہ ہو کہ وہ بک چکے ہیں یا پھر بظاھر مسلمان لیکن یہود و نصاری کی صفت رکھتے ہوں کہ وہ اسلام کے قسم خوردہ دشمن ہیں، خدا نے قران میں ان دو فرقوں کا ہی کھل کر اعلان کیا ہے کہ ان کی دشمنی اسلام کے ساتھ ابدی ہے جو کبھی ختم ہونے والی نہیں سورہ بقرہ آیہ 120 میں ہے کہ: یہود و نصاری تم سے کبھی راضی نہیں ہو سکتے جب تک تم انہی کی ملت کی پیروی نہ کرو
آیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کسی قوم یا قبیلے سے دشمنی ایک مسلمان کو عدل و انصاف و انسانیت سے تو کیا بلکہ حیوانیت سے بھی گرا دے؟ ہاں اسلام کا بھیس بدل کر جو اسلام کو ضرب لگانا چاہتا ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے، در حالیکہ قران کی دعوت ہے کہ: کسی قوم سے تمہاری دشمنی تمہیں عدالت سے دور نہ کر دے، عدالت سے کام لو کہ یہ کام پرہیز گاری سے بہت نزدیک ہے _ سورہ مائدہ آیہ 8
پس کیا خرافاتی جہاد کے سایہ میں جسکی کوئی بنیاد نہیں، اسلام اور جہاد جیسی مقدس چیز (کہ جو خود ایک الگ موضوع ہے) کا چہرا خراب کرنا اور اسکا مزاق بنانا یعنی اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ انسانیت کا اسطرح قتل عام، چھوٹے چھوٹے معصوم بچے کہ جنہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا، انہیں ذبح کرکے انکے کلیجے کھا جانا یہ چوپاوں سے بھی انسان کے گر جانے پر دلالت نہیں کرتا تو اور کیا ہے؟ کیا ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ص ہمیں یہ دین دے کر گئے ہیں، یا خلفاء رض اس دین کو دے کر گئے ہیں؟ واقعا شرم آور ہے
کیا اچھا ہوتا کہ اگر یہ مسلمان ہیں تو قرانی جہاد پر عمل کرتے جن میں سے ایک جہاد مظلوموں کی رہائی کا جہاد ہے، چنانچہ سورہ نساء آیہ 75 میں ہے کہ: اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ خدا کی راہ میں اور ان مستضعف مردوں، عورتوں اور بچوں کی نجات کیلئے جہاد نہیں کرتے کہ جو ۔۔۔
لیکن مظلوموں کا دفاع کرنے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کیلئے فقط جمہوری اسلامی ایران کے علاوہ کوئی اور اپنا اظہار وجود کیوں نہیں کرتا؟ شاید اسوجہ سے کہ اسلام ناب محمدی کی روشنی میں فقط ایران کو اپنا وظیفہ معلوم ہے اور چونکہ اس ہی سورہ کی بعد والی آیت میں جہاد کرنے والوں کی وضاحت بھی ہے: جو لوگ ایمان لائے خدا کی راہ میں قتال کرتے ہیں اور جنہوں نے کفر اختیار کیا وہ طاغوت کی راہ میں قتال کرتے ہیں سورہ نساء آیہ 76 ۔ اور طاغوت کا مصداق استکباری طاقتیں من جملہ امریکا اور اسرائیل ہیں
نکتہ قابل توجہ یہ ہے مثلا، ملت فلسطین اور ملت ایران کے عقائدی اصول یکسان نہیں ہیں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن پھر بھی وظیفہ کی ادائگی گویا لگتا ہے کہ انسانیت کا دل جمہوری اسلامی کے ہی سینے میں دھڑکتا ہے، اور یہ تو پوری دنیا کو معلوم ہے کہ مظلوم کا ساتھ کون دیتا ہے اور فلسطین یا اسکے علاوہ دوسرے مسلمانوں کے قتل عام کے لئے یہود و نصاری کا جان، مال، زمین اور پیٹرول وغیرہ سے تعاون کون کرتا ہے، اور یہ فرق کیوں نہ ہو چونکہ جسکا تعلق جس مسلک سے جتنا گہرا اور نزدیک ہو اسکو اسکا درد اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے، شاہد مثال کیلئے یہاں پر امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی قضاوتوں میں سے ایک قضاوت بیان کرتا ہوں
بہت مشہور ہے وہی دو عورتیں کہ جنکے درمیان ایک بچہ کی مالکیت پر نزاع تھی، ایک کہتی بچہ میرا ہے، دوسری کہتی بچہ میرا ہے آخر کار امیر المومنین حضرت علی ع نے ان دونوں کے درمیان نفسیاتی فیصلہ کیا اور حکم دیا کہ بچے کے دو ٹکڑے کر دئے جائیں، آدھا اس عورت کو اور آدھا اس عورت کو دے دیا جائے اتنا سننا تھا کہ غیر حقیقی ماں پر کوئی اثر نہیں ہوا لیکن حقیقی ماں کا کلیجہ منھ کو آنے لگا چیخ اٹھی کہ بچے کو ٹکڑے نہ کرو سالم رہنے دو چاہے اسی کو دے دو میں اپنے بچے کو ٹکڑے ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی، حضرت ع نے فرمان دیا کہ فیصلہ ہو گیا بچہ کی حقیقی ماں یہ ہے بچہ اسکو دے دیا جائے
اسلام سے اس حقیقی نسبت اور محبت کا یہاں سے پتا چلتا ہے کہ؛ آیا دنیا نے اس ظلم و تشدد اور بربریت کے خلاف، حقیقی علمائے اسلام کو کبھی دیکھا کہ اس کے رد میں مثلا آیت اللہ سیستانی صاحب نے عراق میں، آیت اللہ خامنہ ای صاحب نے ایران یا دیگر مراجع نے کسی خطہ میں یہ کہ دیا ہو یا فتوی دیا ہو کہ: اے مظلوم اور اسلام کی راہ میں ذبح ہونے والے مسلمانوں تم بھی اٹھو اور ان کی گردنیں کاٹ ڈالو، ان کے عورت، مرد اور بچوں کا قتل عام کرو اور ان کے دل نکال کر کھا جاو، نہیں، چونکہ اسلام میں ظلم و بربریت، طالبانیزم و داعشیزم کا گذر ہی نہیں، اور نسبت چونکہ یہاں پر حقیقی ماں کی ہے کہ درد کو وہی احساس کر سکتی ہے
میری تمام مسلمانوں کو خصوصا اور انسانیت کا درد رکھنے والی دنیا کو عموما دعوت ہے کہ انسانیت پر اس ظلم و تشدد کو پہچانیں اور پہچنوائیں، حقیقی اسلام سے قران کی روشنی میں آشنا ہوں، اسلام کا بھیس بدلے دشمنان اسلام کو پہچانیں اور ان سے اپنا حساب الگ کریں چونکہ دشمن، اسلام اور تمام مسلمانوں کا دامن داغدار کرنے پر کمر باندھے ہوے ہے
لمحہ فکریہ ہے، ذرا سوچیں، فکر کریں کہ اخلاق مجسم، رحمہ للعالمین، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اگر یہ سوال کریں کہ: کیا میں یہی دین لیکر آیا تھا؟ تو کیا جواب دوگے
التماس دعاء
بقلم: سید نوراللہ عابدی
مقیم قم ایران
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲